مسئلہ کشمیر — امن کا راستہ بات چیت سے ہی نکلے گا

Himalayan peaks over the Kashmir Valley

Written by

in

جنوبی ایشیا کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ایک مسئلہ دہائیوں سے اپنی جگہ قائم ہے — مسئلہ کشمیر۔ یہ تنازع دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہے، اور اس کی قیمت دونوں طرف کے عام شہری ادا کر رہے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ اس مسئلے پر جنگیں بھی ہوئیں اور مذاکرات بھی۔ جنگوں نے مسئلہ حل نہیں کیا؛ انہوں نے صرف زخم گہرے کیے۔ مذاکرات جب بھی سنجیدگی سے ہوئے، امید کی کرن نظر آئی — اور جب تعطل آیا، صورتحال پھر بگڑی۔

کشمیری عوام اس تنازع کا مرکزی فریق ہیں۔ ان کی زندگیاں لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف متاثر ہوتی ہیں۔ کوئی بھی پائیدار حل ان کی خواہشات اور ان کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کر کے ممکن نہیں۔

معاشی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک دفاع پر جو وسائل خرچ کرتے ہیں، ان کا ایک حصہ بھی اگر تعلیم، صحت اور ترقی پر لگے تو خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ امن کا منافع جنگ کے خرچ سے کہیں زیادہ ہے۔

بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری بھی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کا سیاسی ارادہ ناپید ہے۔ عالمی طاقتوں کو اس مسئلے کو محض بیانات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔

اعتماد سازی کے اقدامات — تجارت، عوامی رابطے، صحافتی تبادلے — چھوٹے قدم لگتے ہیں، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے معاہدوں کی بنیاد انہی چھوٹے قدموں پر رکھی جاتی ہے۔

میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ دونوں طرف کے میڈیا کو چاہیے کہ وہ جنگی جنون پھیلانے کے بجائے امن کی آواز بنیں۔ نفرت کی تجارت آسان ہے، مفاہمت کی صحافت مشکل — اور اسی لیے قیمتی ہے۔

نوجوان نسل اس مسئلے کو پرانی عینک سے نہیں دیکھتی۔ وہ روزگار، تعلیم اور بہتر مستقبل چاہتی ہے۔ پالیسی سازوں کو اس نسل کی امنگوں کو سمجھنا ہوگا۔

راستہ واضح ہے: مسلسل، بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت۔ اس میں تاخیر کا مطلب مزید دہائیوں کا تعطل ہے — اور اس تعطل کی قیمت آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *