پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ آبادیاتی حقیقت ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ ٹیکنالوجی وہ ذریعہ ہے جو اس چیلنج کو موقع میں بدل سکتا ہے۔
فری لانسنگ اس کی واضح مثال ہے۔ ہزاروں پاکستانی نوجوان آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بیرون ملک کے کلائنٹس کے لیے کام کر کے زر مبادلہ کما رہے ہیں۔ یہ آمدنی نہ صرف ان کے گھرانوں کو سہارا دیتی ہے بلکہ قومی معیشت میں بھی حصہ ڈالتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام اس ڈیجیٹل معیشت کے لیے نوجوان تیار کر رہا ہے؟ بدقسمتی سے جواب زیادہ تر نفی میں ہے۔ ڈگریاں پرانی طرز کی ہیں، جبکہ مارکیٹ نئے ہنر مانگتی ہے۔
حل ڈیجیٹل خواندگی کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنانے میں ہے۔ پرائمری سطح سے ہی بچوں کو کمپیوٹر سے روشناس کرایا جائے، اور ثانوی و اعلیٰ تعلیم میں پروگرامنگ، ڈیزائن اور ڈیٹا کے ہنر شامل کیے جائیں۔
انٹرنیٹ کی سہولت بھی بنیادی حق بن چکی ہے۔ دیہی علاقوں میں تیز اور سستا انٹرنیٹ نہ ہونا ڈیجیٹل تقسیم کو بڑھا رہا ہے۔ شہر اور دیہات کے درمیان یہ خلا کم کیے بغیر ڈیجیٹل پاکستان کا خواب ادھورا رہے گا۔
اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں بھی بہتری آ رہی ہے، لیکن نوجوان کاروباریوں کو اب بھی سرمایہ کاری، رہنمائی اور قانونی آسانیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ حکومت کا کردار رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے راستے ہموار کرنے کا ہونا چاہیے۔
ایک اور اہم پہلو آن لائن حفاظت ہے۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے مواقع کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات — فراڈ، ہراسانی، غلط معلومات — سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے۔
ٹیکنالوجی خود کوئی جادو نہیں؛ یہ ایک آلہ ہے۔ اس آلے کو قوم کی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہے یا ضائع کرنا، یہ فیصلہ ہماری پالیسیوں اور ترجیحات پر منحصر ہے۔ نوجوان تیار ہیں — کیا نظام تیار ہے؟

Leave a Reply